11 اشعار

میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا

Maikade mein aaj ek duniya ko izn-e-aam tha

میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا

«میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

میکدے میں آج اک دنیا کو اذن عام تھادور جام بے خودی بیگانۂ ایام تھا

روح لرزاں آنکھ محو دید دل ناکام تھاعشق کا آغاز بھی شائستۂ انجام تھا

رفتہ رفتہ عشق کو تصویر غم کر ہی دیاحسن بھی کتنا خراب گردش ایام تھا

غم کدے میں دہر کے یوں تو اندھیرا تھا مگرعشق کا داغ سیہ بختی چراغ شام تھا

تیری دزدیدہ نگاہی یوں تو نا محسوس تھیہاں مگر دفتر کا دفتر حسن کا پیغام تھا

شاق اہل شوق پر تھیں اس کی عصمت داریاںسچ ہے لیکن حسن در پردہ بہت بد نام تھا

محو تھے گلزار رنگا رنگ کے نقش و نگاروحشتیں تھی دل کے سناٹے تھے دشت شام تھا

بے خطا تھا حسن ہر جور و جفا کے بعد بھیعشق کے سر تا ابد الزام ہی الزام تھا

یوں گریباں چاک دنیا میں نہیں ہوتا کوئیہر کھلا گلشن شہید گردش ایام تھا

دیکھ حسن شرمگیں در پردہ کیا لایا ہے رنگعشق رسوائے جہاں بدنام ہی بدنام تھا

رونق بزم جہاں تھا گو دل غمگیں فراقؔسرد تھا افسردہ تھا محروم تھا ناکام تھا

— فراق گورکھپوری