13 اشعار

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے

Mujh ko mara hai har ek dard-o-dawa se pehle

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے

«مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 57 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلےدی سزا عشق نے ہر جرم و خطا سے پہلے

آتش عشق بھڑکتی ہے ہوا سے پہلےہونٹ جلتے ہیں محبت میں دعا سے پہلے

فتنے برپا ہوئے ہر غنچۂ سربستہ سےکھل گیا راز چمن چاک قبا سے پہلے

چال ہے بادۂ ہستی کا چھلکتا ہوا جامہم کہاں تھے ترے نقش کف پا سے پہلے

اب کمی کیا ہے ترے بے سر و سامانوں کوکچھ نہ تھا تیری قسم ترک وفا سے پہلے

عشق بے باک کو دعوے تھے بہت خلوت میںکھو دیا سارا بھرم شرم و حیا سے پہلے

خود بخود چاک ہوئے پیرہن لالہ و گلچل گئی کون ہوا باد صبا سے پہلے

ہم سفر راہ عدم میں نہ ہو تاروں بھری راتہم پہنچ جائیں گے اس آبلہ پا سے پہلے

پردۂ شرم میں صد برق تبسم کے نثارہوش جاتے رہے نیرنگ حیا سے پہلے

موت کے نام سے ڈرتے تھے ہم اے شوق حیاتتو نے تو مار ہی ڈالا تھا قضا سے پہلے

بے تکلف بھی ترا حسن خود آرا تھا کبھیاک ادا اور بھی تھی حسن ادا سے پہلے

غفلتیں ہستئ فانی کی بتا دیں گی تجھےجو مرا حال تھا احساس فنا سے پہلے

ہم انہیں پا کے فراقؔ اور بھی کچھ کھوئے گئےیہ تکلف تو نہ تھے عہد وفا سے پہلے

— فراق گورکھپوری