17 اشعار

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں

Narm fiza ki karwatein dil ko dikha ke reh gayin

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں

«نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیںٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداسدل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تریمجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں

حسن نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگرتیری ادائیں آج تو دل میں سما کے رہ گئیں

تب کہیں کچھ پتہ چلا صدق و خلوص حسن کاجب وہ نگاہیں عشق سے باتیں بنا کے رہ گئیں

تیرے خرام ناز سے آج وہاں چمن کھلےفصلیں بہار کی جہاں خاک اڑا کے رہ گئیں

پوچھ نہ ان نگاہوں کی طرفہ کرشمہ سازیاںفتنے سلا کے رہ گئیں فتنے جگا کے رہ گئیں

تاروں کی آنکھ بھی بھر آئی میری صدائے درد پران کی نگاہیں بھی ترا نام بتا کے رہ گئیں

اف یہ زمیں کی گردشیں آہ یہ غم کی ٹھوکریںیہ بھی تو بخت خفتہ کے شانے ہلا کے رہ گئیں

اور تو اہل درد کون سنبھالتا بھلاہاں تیری شادمانیاں ان کو رلا کے رہ گئیں

یاد کچھ آئیں اس طرح بھولی ہوئی کہانیاںکھوے ہوئے دلوں میں آج درد اٹھا کے رہ گئیں

ساز نشاط زندگی آج لرز لرز اٹھاکس کی نگاہیں عشق کا درد سنا کے رہ گئیں

تم نہیں آئے اور رات رہ گئی راہ دیکھتیتاروں کی محفلیں بھی آج آنکھیں بچھا کے رہ گئیں

جھوم کے پھر چلیں ہوائیں وجد میں آئیں پھر فضائیںپھر تری یاد کی گھٹائیں سینوں پہ چھا کے رہ گئیں

قلب و نگاہ کی یہ عید اف یہ مآل قرب و دیدچرخ کی گردشیں تجھے مجھ سے چھپا کے رہ گئیں

پھر ہیں وہی اداسیاں پھر وہی سونی کائناتاہل طرب کی محفلیں رنگ جما کے رہ گئیں

کون سکون دے سکا غم زدگان عشق کوبھیگتی راتیں بھی فراقؔ آگ لگا کے رہ گئیں

— فراق گورکھپوری