16 اشعار

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

Nigah-e-naaz ne parde uthaye hain kya kya

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

«نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیاحجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کیچراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نےفریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹتری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا

نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانےلبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا

وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کیجگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

چراغ طور جلے آئنہ در آئینہحجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا

بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگرنگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل بربادخرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کافسون غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا

ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میںچمن میں غنچۂ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا

ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہناسلوک اچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا

نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نےدلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

پیام حسن پیام جنوں پیام فناتری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

تمام حسن کے جلوے تمام محرومیبھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا

فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیریبڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

— فراق گورکھپوری