24 اشعار

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

Raat bhi neend bhi kahani bhi

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

«رات بھی نیند بھی کہانی بھی» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

رات بھی نیند بھی کہانی بھیہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

ایک پیغام زندگانی بھیعاشقی مرگ ناگہانی بھی

اس ادا کا تری جواب نہیںمہربانی بھی سرگرانی بھی

دل کو اپنے بھی غم تھے دنیا میںکچھ بلائیں تھیں آسمانی بھی

منصب دل خوشی لٹانا ہےغم پنہاں کی پاسبانی بھی

دل کو شعلوں سے کرتی ہے سیرابزندگی آگ بھی ہے پانی بھی

شاد کاموں کو یہ نہیں توفیقدل غمگیں کی شادمانی بھی

لاکھ حسن یقیں سے بڑھ کر ہےان نگاہوں کی بد گمانی بھی

تنگنائے دل ملول میں ہےبحر ہستی کی بے کرانی بھی

عشق ناکام کی ہے پرچھائیںشادمانی بھی کامرانی بھی

دیکھ دل کے نگار خانے میںزخم پنہاں کی ہے نشانی بھی

خلق کیا کیا مجھے نہیں کہتیکچھ سنوں میں تری زبانی بھی

آئے تاریخ عشق میں سو بارموت کے دور درمیانی بھی

اپنی معصومیت کے پردے میںہو گئی وہ نظر سیانی بھی

دن کو سورج مکھی ہے وہ نو گلرات کو ہے وہ رات رانی بھی

دل بد نام تیرے بارے میںلوگ کہتے ہیں اک کہانی بھی

وضع کرتے کوئی نئی دنیاکہ یہ دنیا ہوئی پرانی بھی

دل کو آداب بندگی بھی نہ آئےکر گئے لوگ حکمرانی بھی

جور کم کم کا شکریہ بس ہےآپ کی اتنی مہربانی بھی

دل میں اک ہوک بھی اٹھی اے دوستیاد آئی تری جوانی بھی

سر سے پا تک سپردگی کی اداایک انداز ترکمانی بھی

پاس رہنا کسی کا رات کی راتمیہمانی بھی میزبانی بھی

ہو نہ عکس جبین ناز کہ ہےدل میں اک نور کہکشانی بھی

زندگی عین دید یار فراقؔزندگی ہجر کی کہانی بھی

— فراق گورکھپوری