15 اشعار

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا

Ras mein dooba hua lehrata badan kya kehna

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا

«رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہنا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

رس میں ڈوبا ہوا لہراتا بدن کیا کہناکروٹیں لیتی ہوئی صبح چمن کیا کہنا

نگہ ناز میں یہ پچھلے پہر رنگ خمارنیند میں ڈوبی ہوئی چندر کرن کیا کہنا

باغ جنت پہ گھٹا جیسے برس کے کھل جائےیہ سہانی تری خوشبوئے بدن کیا کہنا

ٹھہری ٹھہری سی نگاہوں میں یہ وحشت کی کرنچونکے چونکے سے یہ آہوئے ختن کیا کہنا

روپ سنگیت نے دھارا ہے بدن کا یہ رچاؤتجھ پہ لہلوٹ ہے بے ساختہ پن کیا کہنا

جیسے لہرائے کوئی شعلہ کمر کی یہ لچکسر بسر آتش سیال بدن کیا کہنا

جس طرح جلوۂ فردوس ہواؤں سے چھنےپیرہن میں ترے رنگینیٔ تن کیا کہنا

جلوہ و پردے کا یہ رنگ دم نظارہجس طرح ادھ کھلے گھونگھٹ میں دلہن کیا کہنا

دم تقریر کھل اٹھتے ہیں گلستاں کیا کیایوں تو اک غنچۂ نورس ہے دہن کیا کہنا

دل کے آئینے میں اس طرح اترتی ہے نگاہجیسے پانی میں لچک جائے کرن کیا کہنا

لہلہاتا ہوا یہ قد یہ لہکتا جوبنزلف سو مہکی ہوئی راتوں کا بن کیا کہنا

تو محبت کا ستارہ تو جوانی کا سہاگحسن لو دیتا ہے لعل یمن کیا کہنا

تیری آواز سویرا تری باتیں تڑکاآنکھیں کھل جاتی ہیں اعجاز سخن کیا کہنا

زلف شب گوں کی چمک پیکر سیمیں کی دمکدیپ مالا ہے سر گنگ و جمن کیا کہنا

نیلگوں شبنمی کپڑوں میں بدن کی یہ جوتجیسے چھنتی ہو ستاروں کی کرن کیا کہنا

— فراق گورکھپوری