13 اشعار

رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی

Ruki ruki si shab-e-marg khatm par aayi

رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی

«رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئی» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

رکی رکی سی شب مرگ ختم پر آئیوہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی

یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی نہ ساتھمسافروں سے کہو اس کی رہ گزر آئی

فضا تبسم صبح بہار تھی لیکنپہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی

کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوںمگر یہ بات محبت کی بات پر آئی

کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھیامید واروں میں کل موت بھی نظر آئی

کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھاکہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی

دلوں میں آج تری یاد مدتوں کے بعدبہ چہرۂ متبسم بہ چشم تر آئی

نیا نہیں ہے مجھے مرگ ناگہاں کا پیامہزار رنگ سے اپنی مجھے خبر آئی

فضا کو جیسے کوئی راگ چیرتا جائےتری نگاہ دلوں میں یوں ہی اتر آئی

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوستترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

ترا ہی عکس سرشک غم زمانہ میں تھانگاہ میں تری تصویر سی اتر آئی

عجب نہیں کہ چمن در چمن بنے ہر پھولکلی کلی کی صبا جا کے گود بھر آئی

شب فراقؔ اٹھے دل میں اور بھی کچھ دردکہوں یہ کیسے تری یاد رات بھر آئی

— فراق گورکھپوری