15 اشعار

سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے

Samajhta hoon ke tu mujh se juda hai

سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے

«سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا ہےشب فرقت مجھے کیا ہو گیا ہے

ترا غم کیا ہے بس یہ جانتا ہوںکہ میری زندگی مجھ سے خفا ہے

کبھی خوش کر گئی مجھ کو تری یادکبھی آنکھوں میں آنسو آ گیا ہے

حجابوں کو سمجھ بیٹھا میں جلوہنگاہوں کو بڑا دھوکا ہوا ہے

بہت دور اب ہے دل سے یاد تیریمحبت کا زمانہ آ رہا ہے

نہ جی خوش کر سکا تیرا کرم بھیمحبت کو بڑا دھوکا رہا ہے

کبھی تڑپا گیا ہے دل ترا غمکبھی دل کو سہارا دے گیا ہے

شکایت تیری دل سے کرتے کرتےاچانک پیار تجھ پر آ گیا ہے

جسے چونکا کے تو نے پھیر لی آنکھوہ تیرا درد اب تک جاگتا ہے

جہاں ہے موجزن رنگینئ حسنوہیں دل کا کنول لہرا رہا ہے

گلابی ہوتی جاتی ہیں فضائیںکوئی اس رنگ سے شرما رہا ہے

محبت تجھ سے تھی قبل از محبتکچھ ایسا یاد مجھ کو آ رہا ہے

جدا آغاز سے انجام سے دورمحبت اک مسلسل ماجرا ہے

خدا حافظ مگر اب زندگی میںفقط اپنا سہارا رہ گیا ہے

محبت میں فراقؔ اتنا نہ غم کرزمانے میں یہی ہوتا رہا ہے

— فراق گورکھپوری