12 اشعار

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

Sar mein sauda bhi nahin dil mein tamanna bhi nahin

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

«سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیںلیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں

دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میںلیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوستآہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

آج غفلت بھی ان آنکھوں میں ہے پہلے سے سواآج ہی خاطر بیمار شکیبا بھی نہیں

بات یہ ہے کہ سکون دل وحشی کا مقامکنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں

ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیںتو نے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

آہ یہ مجمع احباب یہ بزم خاموشآج محفل میں فراقؔ سخن آرا بھی نہیں

یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبوریہ بھی سچ ہے کہ ترا حسن کچھ ایسا بھی نہیں

یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانۂ عشقمگر اے دوست کچھ ایسوں کا ٹھکانا بھی نہیں

فطرت حسن تو معلوم ہے تجھ کو ہمدمچارہ ہی کیا ہے بجز صبر سو ہوتا بھی نہیں

منہ سے ہم اپنے برا تو نہیں کہتے کہ فراقؔہے ترا دوست مگر آدمی اچھا بھی نہیں

— فراق گورکھپوری