12 اشعار

شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو

Sham-e-gham kuchh is nigah-e-naaz ki baatein karo

شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو

«شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کرو» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

شام غم کچھ اس نگاہ ناز کی باتیں کروبے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو

یہ سکوت ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹناخامشی میں کچھ شکست ساز کی باتیں کرو

نکہت زلف پریشاں داستان شام غمصبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو

ہر رگ دل وجد میں آتی رہے دکھتی رہےیوں ہی اس کے جا و بے جا ناز کی باتیں کرو

جو عدم کی جان ہے جو ہے پیام زندگیاس سکوت راز اس آواز کی باتیں کرو

عشق رسوا ہو چلا بے کیف سا بیزار ساآج اس کی نرگس غماز کی باتیں کرو

نام بھی لینا ہے جس کا اک جہان رنگ و بودوستو اس نو بہار ناز کی باتیں کرو

کس لیے عذر تغافل کس لیے الزام عشقآج چرخ‌ تفرقہ پرواز کی باتیں کرو

کچھ قفس کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نور ساکچھ فضا کچھ حسرت پرواز کی باتیں کرو

جو حیات جاوداں ہے جو ہے مرگ ناگہاںآج کچھ اس ناز اس انداز کی باتیں کرو

عشق بے پروا بھی اب کچھ ناشکیبا ہو چلاشوخئ حسن کرشہ ساز کی باتیں کرو

جس کی فرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراقؔآج اس عیسیٰ نفس دم ساز کی باتیں کرو

— فراق گورکھپوری