16 اشعار

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں

Sitaron se ulajhta ja raha hoon

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں

«ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوںشب فرقت بہت گھبرا رہا ہوں

ترے غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوںجہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں

یقیں یہ ہے حقیقت کھل رہی ہےگماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں

اگر ممکن ہو لے لے اپنی آہٹخبر دو حسن کو میں آ رہا ہوں

حدیں حسن و محبت کی ملا کرقیامت پر قیامت ڈھا رہا ہوں

خبر ہے تجھ کو اے ضبط محبتترے ہاتھوں میں لٹتا جا رہا ہوں

اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کاتجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں

بھرم تیرے ستم کا کھل چکا ہےمیں تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں

انہیں میں راز ہیں گلباریوں کےمیں جو چنگاریاں برسا رہا ہوں

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھےوہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

ترے پہلو میں کیوں ہوتا ہے محسوسکہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں

حد‌‌ جور‌ و کرم سے بڑھ چلا حسننگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں

جو الجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوںوہ گتھی آج تک سلجھا رہا ہوں

محبت اب محبت ہو چلی ہےتجھے کچھ بھولتا سا جا رہا ہوں

اجل بھی جن کو سن کر جھومتی ہےوہ نغمے زندگی کے گا رہا ہوں

یہ سناٹا ہے میرے پاؤں کی چاپفراقؔ اپنی کچھ آہٹ پا رہا ہوں

— فراق گورکھپوری