21 اشعار

تیز احساس خودی درکار ہے

Tez ehsaas-e-khudi darkar hai

تیز احساس خودی درکار ہے

«تیز احساس خودی درکار ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

تیز احساس خودی درکار ہےزندگی کو زندگی درکار ہے

جو چڑھا جائے خمستان جہاںہاں وہی لب تشنگی درکار ہے

دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کامآدمی کو آدمی درکار ہے

سو گلستاں جس اداسی پر نثارمجھ کو وہ افسردگی درکار ہے

شاعری ہے سربسر تہذیب‌ قلباس کو غم شائستگی درکار ہے

شعلہ میں لاتا ہے جو سوز و گدازوہ خلوص باطنی درکار ہے

خوبیٔ لفظ و بیاں سے کچھ سواشاعری کو ساحری درکار ہے

قادر مطلق کو بھی انسان کیسنتے ہیں بے چارگی درکار ہے

اور ہوں گے طالب مدح جہاںمجھ کو بس تیری خوشی درکار ہے

عقل میں یوں تو نہیں کوئی کمیاک ذرا دیوانگی درکار ہے

ہوش والوں کو بھی میری رائے میںایک گونہ بے خودی درکار ہے

خطرۂ بسیار دانی کی قسمعلم میں بھی کچھ کمی درکار ہے

دوستو کافی نہیں چشم خردعشق کو بھی روشنی درکار ہے

میری غزلوں میں حقائق ہیں فقطآپ کو تو شاعری درکار ہے

تیرے پاس آیا ہوں کہنے ایک باتمجھ کو تیری دوستی درکار ہے

میں جفاؤں کا نہ کرتا یوں گلہآج تیری ناخوشی درکار ہے

اس کی زلف آراستہ پیراستہاک ذرا سی برہمی درکار ہے

زندہ دل تھا تازہ دم تھا ہجر میںآج مجھ کو بے دلی درکار ہے

حلقہ حلقہ گیسوئے شب رنگ یارمجھ کو تیری ابتری درکار ہے

عقل نے کل میرے کانوں میں کہامجھ کو تیری زندگی درکار ہے

تیز رو تہذیب عالم کو فراقؔاک ذرا آہستگی درکار ہے

— فراق گورکھپوری