14 اشعار

تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں

Tumhein kyun kar bataein zindagi ko kya samajhte hain

تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں

«تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 52 سیکنڈ ہے۔

تمہیں کیوں کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیںسمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں

کسی بدمست کو راز آشنا سب کا سمجھتے ہیںنگاہ یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں

بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیںکہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں

کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہےترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں

امیدوں میں بھی ان کی ایک شان بے نیازی ہےہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں

یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانبمگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں

کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہےجدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں

جہاں کی فطرت بیگانہ میں جو کیف غم بھر دیںوہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں

ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میںمگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں

نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکارینہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں

بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کرتجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں

یہ کہہ کر آبلہ پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کوجسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں

یہ ہستی نیستی سب موج خیزی ہے محبت کینہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں

فراقؔ اس گردش ایام سے کب کام نکلا ہےسحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں

— فراق گورکھپوری