9 اشعار

طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا

Toor tha Kaaba tha dil tha jalwa-zaar-e-yaar tha

طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا

«طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھاعشق سب کچھ تھا مگر پھر عالم اسرار تھا

نشۂ صد جام کیف انتظار یار تھاہجر میں ٹھہرا ہوا دل ساغر سرشار تھا

الوداع اے بزم انجم ہجر کی شب الفراقتا بہ دور‌ زندگانی انتظار یار تھا

ایک ادا سے بے نیاز قرب و دوری کر دیاماورائے وصل و ہجراں حسن کا اقرار تھا

جوہر آئینۂ عالم بنے آنسو مرےیوں تو سچ یہ ہے کہ رونا عشق میں بے کار تھا

شوخئ رفتار وجہ ہستئ برباد تھیزندگی کیا تھی غبار رہ گزار یار تھا

الفت دیرینہ کا جب ذکر اشاروں میں کیامسکرا کر مجھ سے پوچھا تم کو کس سے پیار تھا

دل دکھے روئے ہیں شاید اس جگہ اے کوئے دوستخاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا

ذرہ ذرہ آئنہ تھا خود نمائی کا فراقؔسر بسر صحرائے عالم جلوہ زار یار تھا

— فراق گورکھپوری