5 اشعار

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

Aag hai phaili hui kaali ghataon ki jagah

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ

«آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہبد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ

انتخاب اہل گلشن پر بہت روتا ہے دلدیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواؤں کی جگہ

کچھ بھی ہوتا پر نہ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاںراہزن ہوتے اگر ان رہنماؤں کی جگہ

لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبروبک رہے ہیں اب صحافی بیسواؤں کی جگہ

کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہغیر ہوتے کاش جالبؔ آشناؤں کی جگہ

— حبیب جالب