دستور
کلام: حبیب جالب
دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلےایسے دستور کو صبح بے نور کو
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلےایسے دستور کو صبح بے نور کو
ایہہ گھنگرو نہیں زنجیراں نےدنیا نے پیریں پائیاں
ایہہ چھنک دیاں رسوائیاںنہیں سندا کوئی دہائیاں