9 اشعار

آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی

Ārzū-e-vasl-e-jānāñ meñ sahar hone lagī

آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی

«آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگیزندگی مانندِ شمعِ مُختصر ہونے لگی

رازِ الفت کھُل نہ جائے، بات رہ جائے مِریبزمِ جاناں میں الہٰی چشم تر ہونے لگی

اب شکیبِ دل کہاں، حسرت ہی حسرت رہ گئیزندگی اِک خواب کی صُورت بسر ہونے لگی

یہ طِلِسمِ حُسن ہے، یا کہ مآلِ عشق ہےاپنی ناکامی ہی اپنی راہ بر ہونے لگی

سُن رہا ہوں آرہے ہیں وہ سرِ بالین آجمیری آہِ نارسا بھی، با اثرہونے لگی

اُن سے وابستہ اُمیدیں جو بھی تھیں، وہ مِٹ گئیںاب طبیعت، آپ اپنی چارہ گر ہونے لگی

وہ تبسّم تھا، کہ برقِ حُسن کا اعجاز تھاکائناتِ جان و دل زیر و زبر ہونے لگی

دل کی دھڑکن بڑھ گئی آنکھوں میں آنسو آ گئےغالباً میری طرف اُن کی نظر ہونے گی

جب چلا مُشتاق اپنا کارواں سُوئے عدمیاس ہم آغوش ہو کر ہم سفر ہونے لگی

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں