9 اشعار

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

Yeh mulāqāt mulāqāt nahīñ hotī hai

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

«یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہےبات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پراگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے

غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیںضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے

یہ مرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلےبازیٔ عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے

وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کاوصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے

ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پردن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے

ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیںآج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاںمیں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے

فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظباعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے

— حفیظ جالندھری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں