12 اشعار

عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے

Anab lab ka apne maza kuch na poochhiye

عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے

«عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

عناب لب کا اپنے مزا کچھ نہ پوچھئےکس درد کے ہیں آپ دوا کچھ نہ پوچھئے

ناز و نیاز عاشق و معشوق کیا کہوںعجز و غرور شاہ و گدا کچھ نہ پوچھئے

خوشبو سے ہو رہا ہے معطر دماغ جانچلتی ہے کس طرف کی ہوا کچھ نہ پوچھئے

کیا کیا نگہ پھسلتی ہے رخسار یار پرکیسا یہ آئنہ ہے صفا کچھ نہ پوچھئے

جامہ سے باہر اپنے جو ہوں میں عجب نہیںکھولے ہیں کس کے بند قبا کچھ نہ پوچھئے

آئینہ لے کے کیجئے اتنا مشاہدہہم سے سلوک شرم و حیا کچھ نہ پوچھئے

اللہ نے کیا ہے کسے بادشاہ حسنسر پر ہے کس کے ظل ہما کچھ نہ پوچھئے

رنگیں کیے ہیں یار نے جیسے کہ دست و پاکیا رنگ لا رہی ہے حنا کچھ نہ پوچھئے

ناگفتنی ہے عشق بتاں کا معاملہہر حال میں ہے شکر خدا کچھ نہ پوچھئے

کیا شے ہے وہ کمر جو گزرتا ہے یہ خیالآتی ہے غیب سے یہ صدا کچھ نہ پوچھئے

کوتاہ خال روئے منور ہے کس قدرکتنی ہے زلف یار رسا کچھ نہ پوچھئے

آتشؔ گناہ عشق کی تعزیر کیا کہوںمشفق جو کچھ ہے اس کی سزا کچھ نہ پوچھئے

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں