15 اشعار

جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا

Jigar ko daagh mein manind-e-lala kya karta

جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا

«جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتالبالب اپنے لہو کا پیالہ کیا کرتا

ملا نہ سرو کو کچھ اپنی راستی میں پھلکلاہ کج جو نہ کرتا تو لالہ کیا کرتا

جریدہ میں رہ پر خون عشق سے گزراجرس سے قافلہ میں بحث‌‌ نالہ کیا کرتا

جنون عشق میں رہنا تھا امتیاز نہ کچھچکور طوق گلو مہ کا ہالہ کیا کرتا

بجا کیا اسے توڑا جو سر سے دریا کےحباب لے کے یہ خالی پیالہ کیا کرتا

نہ کھایا غصہ کبھی خوانچہ سے قسمت کےپھنسے جو حلق میں میں وہ نوالہ کیا کرتا

بلائے بد ہوئی داغوں سے سردیٔ کافورسلوک نیک زراعت سے ژالہ کیا کرتا

دیا نوشتہ نہ اس بت کو دل کے تودے میںخدا کے گھر کا بھلا میں قبالہ کیا کرتا

صفا ہوا نہ ریاضت سے نفس امارہکوئی نجاست سگ کا ازالہ کیا کرتا

لگی ہے آگ جو کمبل کبھی اڑاھایا ہےترے برہنہ سے گرمی دوشالہ کیا کرتا

نہ کرتی عقل اگر مفت آسماں کی سیرکوئی یہ سات ورق کا رسالہ کیا کرتا

مری طرف جو انہیں کھینچتی کشش دل کیبتوں کو برہمنوں کا حوالہ کیا کرتا

کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کاکوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا

عروس دہر سے بوئے وفا نہیں آتیبھلا جگر کا میں اس کے ازالہ کیا کرتا

مہ دو ہفتہ بھی ہوتا تو لطف تھا آتشؔاکیلے پی کے شراب‌‌ دو سالہ کیا کرتا

— حیدر علی آتش