13 اشعار

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیے

Raftagaan ka bhi khayal ae ahl-e-aalam keejiye

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیے

«رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 44 سیکنڈ ہے۔

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجیےعالم ارواح سے صحبت کوئی دم کیجیے

حالت غم کو نہ بھولا چاہئے شادی میں بھیخندۂ گل دیکھ کر یاد اشک شبنم کیجیے

عیب الفت روز اول سے مری طینت میں ہےداغ لالہ کے لیے کیا فکر مرہم کیجیے

اپنی راحت کے لیے کس کو گوارا ہے یہ رنجگھر بنا کر گردن محراب کو خم کیجیے

عشق کہتا ہے مجھے رام اس بت وحشی کو کرحسن کی غیرت اسے سمجھاتی ہے رم کیجیے

رات صحبت گل سے دن کو ہم بغل خورشید سےرشک اگر کیجے تو رشک بخت شبنم کیجیے

دیدہ و دل کو دکھایا چاہئے دیدار یارحسن کے عالم سے آئینوں کو محرم کیجیے

شکل گل ہنس ہنس کے روز وصل کاٹے ہیں بہتہجر کی شب صبح رو کر مثل شبنم کیجیے

تھی سزا اپنی جو شادی مرگ قسمت نے کیاہجر میں کس نے کہا تھا وصل کا غم کیجیے

آپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہتبڑھ چلے ہیں حد سے گیسو کچھ انہیں کم کیجیے

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیںروئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے

روز مردم شب کیے دیتا ہے سرمہ پوچھیےخون ہوتے ہیں بہت شوق حنا کم کیجیے

آئنے کو روبرو آنے نہ دیجے یار کےشانے سے آتشؔ مزاج زلف برہم کیجیے

— حیدر علی آتش