6 اشعار

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

Koi ishq mein mujh se afzood na nikla

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

«کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلاکبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعرکمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا

ہوا کون سا روز روشن نہ کالاکب افسانۂ زلف شبگوں نہ نکلا

پہونچتا اسے مصرع تازہ و ترقد یار سا سرو موزوں نہ نکلا

رہا سال ہا سال جنگل میں آتشؔمرے سامنے بید مجنوں نہ نکلا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں