کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
کلام: حیدر علی آتش
کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلاکبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش
مہمان شاعر: حیدر علی آتش
کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلاکبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
رخ و زلف پر جان کھویا کیااندھیرے اجالے میں رویا کیا
ہمیشہ لکھے وصف دندان یارقلم اپنا موتی پرویا کیا