9 اشعار

لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے

Lakht-e-jigar ko kyunkar mizhgan-e-tar sambhale

لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے

«لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالےیہ شاخ وہ نہیں جو بار ثمر سنبھالے

دیوانہ ہو کے کوئی پھاڑا کرے گریباںممکن نہیں کہ دامن وہ بے خبر سنبھالے

تلوار کھینچ کر وہ خوں خوار ہے یہ کہتامنہ پر جو کھاتے ڈرتا ہو وہ سپر سنبھالے

تکیے میں آدمی کو لازم کفن ہے رکھنابیٹھا رہے مسافر رخت سفر سنبھالے

یک دم نہ نبھنے دیتی ان کی تنک مزاجیرکھتے نہ ہم طبیعت اپنی اگر سنبھالے

وہ نخل خشک ہوں میں اس گلشن جہاں میںپھرتا ہے باغباں بھی مجھ پر تبر سنبھالے

ہر گام پر خوشی سے وارفتگی سی ہوگیلانا جواب خط کو اے نامہ بر سنبھالے

یا پھر کتر پر اس کے صیاد یا چھری پھیربے بال و پر نے تیرے پھر بال و پر سنبھالے

درد فراق آتشؔ تڑپا رہا ہے ہم کواک ہاتھ دل سنبھالے ہے اک جگر سنبھالے

— حیدر علی آتش