9 اشعار

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں

Mere dil ko shauq-e fughan nahin mere lab tak aati dua nahin

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں

«مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے غالب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں

نہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہےانہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں

کسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میںکبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما نہیں

عجب اس کا کیا نہ سماؤں میں جو خیال دشمن و دوست ہےوہ مقام ہوں کہ گزر نہیں وہ مکان ہوں کہ پتا نہیں

یہ خلاف ہو گیا آسماں یہ ہوا زمانہ کی پھر گئیکہیں گل کھلے بھی تو بوند سے کہیں حسن ہے تو وفا نہیں

مرض جدائی یار نے یہ بگاڑ دی ہے ہماری خوکہ موافق اپنے مزاج کے نظر آتی کوئی دوا نہیں

مجھے زعفران سے زرد تر غم ہجر یار نے کر دیانہیں ایسا کوئی زمانہ میں مرے حال پر جو ہنسا نہیں

مرے آگے اس کو فروغ ہو یہ مجال کیا ہے رقیب کییہ ہجوم جلوۂ یار ہے کہ چراغ خانہ کو جا نہیں

چلیں گو کہ سیکڑوں آندھیاں جلیں گرچہ لاکھ گھر اے فلکبھڑک اٹھے آتشؔ طور پھر کوئی اس طرح کی دوا نہیں

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں