10 اشعار

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے

Zinda wahi hain jo ke hain tum par mare hue

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے

«زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوےباقی جو ہیں سو قبر میں مردے بھرے ہوئے

مست الست قلزم ہستی میں آئے ہیںمثل حباب اپنا پیالہ بھرے ہوئے

اللہ رے صفائے تن نازنین یارموتی ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے

دو دن سے پاؤں جو نہیں دبوائے یار نےبیٹھے ہیں ہاتھ ہاتھ کے اوپر دھرے ہوئے

ان ابروؤں کے حلقہ میں وہ انکھڑیاں نہیںدو طاق پر ہیں دو گل نرگس دھرے ہوئے

بعد فنا بھی آئے گی مجھ مست کو نہ نیندبے خشت خم لحد میں سرہانے دھرے ہوئے

نکلیں جو اشک بے اثر آنکھوں سے کیا عجبپیدا ہوئے ہیں طفل ہزاروں مرے ہوئے

لکھے گئے بیاضوں میں اشعار انتخابرائج رہے وہی کہ جو سکے کھرے ہوئے

الٹا صفوں کو تیغ نے ابروئے یار کیتیر مژہ سے درہم و برہم پرے ہوئے

آتشؔ خدا نے چاہا تو دریائے عشق میںکودے جو اب کی ہم تو ورے سے پرے ہوئے

— حیدر علی آتش