14 اشعار

حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

Habab aasa main dam bharta hun teri aashnai ka

حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

«حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کانہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کا

اسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونوں ہیںگرفتار آہنی زنجیر کا یہ وہ طلائی کا

تعلق روح سے مجھ کو جسد کا نا گوارا ہےزمانے میں چلن ہے چار دن کی آشنائی کا

فراق یار میں مر مر کے آخر زندگانی کےرہا صدمہ ہمیشہ روح و قالب کی جدائی کا

ہوئی منظور محتاجی نہ تجھ کو اپنی سائل کیبنایا کاسۂ سر واژگوں کاسہ گدائی کا

نظر آتی ہیں ہر سو صورتیں ہی صورتیں مجھ کوکوئی آئینہ خانہ کارخانہ ہے جدائی کا

وصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پریقیں مجھ کو نہیں ہے گور تک اپنی رسائی کا

بھروسہ آہ پر ہرگز نہیں اے یار عاشق کوشکار اب تک کہیں دیکھا نہیں تیر ہوائی کا

دکھایا حسن سے اعجاز موسی کلک قدرت نےید بیضا بنایا چور انگشت حنائی کا

نہیں مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہیںرہے گا پائے بت پر نقش اپنی جبہہ سائی کا

شکست خاطر احباب ہوتی ہے درست اس سےتوجہ میں تری اے یار اثر ہے مومیائی کا

دل اپنا آئینہ سا صاف عشق پاک رکھتا ہےتماشا دیکھتا ہے حسن اس میں خود نمائی کا

کف افسوس ملواتی ہے تیری پاک دامانیپنہا کر شاہد عصمت کو جامہ پارسائی کا

نہیں دیکھا ہے لیکن تجھ کو پہچانا ہے آتشؔ نےبجا ہے اے صنم جو تجھ کو دعویٰ ہے خدائی کا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں