10 اشعار

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

Shab-e-wasl thi chandni ka samaan tha

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

«شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھابغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھیسحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کیزمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

نکالے تھے دو چاند اس نے مقابلوہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصلفرح ناک تھی روح دل شادماں تھا

مشاہد جمال پری کی تھی آنکھیںمکان وصال اک طلسمی مکاں تھا

حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھیکھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

کیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیداکمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا

حقیقت دکھاتا تھا عشق مجازینہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہےیہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں