7 اشعار

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

Yaar ko main ne mujhe yaar ne sone na diya

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

«یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے اسرار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیارات بھر طالع بے دار نے سونے نہ دیا

خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیادھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا

شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبحشادیٔ دولت دیدار نے سونے نہ دیا

ایک شب بلبل بے تاب کے جاگے نہ نصیبپہلوئے گل میں کبھی خار نے سونے نا دیا

رات بھر کی دل بیتاب نے باتیں مجھ سےرنج و محنت کے گرفتار نے سونے نہ دیا

سچ ہے غم خواریٔ بیمار عذاب جاں ہےتا دم مرگ دل زار نے سونے نہ دیا

تکیہ تک پہلو میں اس گل نے نہ رکھا آتشؔغیر کو ساتھ کبھی یار نے سونے نہ دیا

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں