10 اشعار

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست

Taar taar pairahan mein bhar gayi hai boo-e dost

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست

«تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست» حیدر علی آتش کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ حیدر علی آتش» میں 22 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوستمثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست

چہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگرحسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست

ہجر کی شب ہو چکی روز قیامت سے درازدوش سے نیچے نہیں اترے ابھی گیسوئے دوست

دور کر دل کی کدورت محو ہو دیدار کاآئنے کو سینہ صافی نے دکھایا روئے دوست

واہ رے شانے کی قسمت کس کو یہ معلوم تھاپنجۂ شل سے کھلیں گے عقدہ ہائے موئے دوست

داغ دل پر خیر گزری تو غنیمت جانیےدشمن جاں ہیں جو آنکھیں دیکھتی ہیں سوئے دوست

دو مریں گے زخم کاری سے تو حسرت سے ہزارچار تلواروں میں شل ہو جائے گا بازوئے دوست

فرش گل بستر تھا اپنا خاک پر سوتے ہیں ابخشت زیر سر نہیں یا تکیہ تھا زانوئے دوست

یاد کر کے اپنی بربادی کو رو دیتے ہیں ہمجب اڑاتی ہے ہوائے تند خاک کوئے دوست

اس بلائے جاں سے آتشؔ دیکھیے کیوں کر بنےدل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست

— حیدر علی آتش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں