تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا
کلام: حسرت موہانی
تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہواہم سے پھر بھی ترا گلہ نہ ہوا
ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کیدشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہواہم سے پھر بھی ترا گلہ نہ ہوا
ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کیدشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا
گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کرغزلوں میں ڈھلے لفظ سمندر سے نکل کر
کر دیتی ہے آباد مری آنکھوں کی دنیاحسرت تری تصویر کے اندر سے نکل کر