7 اشعار

مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا

Mujh ko khabar nahin ke mera martaba hai kya

مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا

«مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیا» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

مجھ کو خبر نہیں کہ مِرا مرتبہ ہے کیایہ تیرے اِلتفات نے آخر کِیا ہے کیا

مِلتی کہاں گُداز طبیعت کی لذَّتیںرنجِ فراقِ یار بھی راحت فزا ہے کیا

حاضرہے جانِ زار، جو چاہو مجھے ہلاک !معلوُم بھی تو ہو، کہ تمہاری رضا ہے کیا

ہُوں دردِ لادَوائے محّبت کا مُبتلامجھ کو خبر نہیں کہ دَوا کیا، دُعا ہے کیا

میری خطا پہ آپ کو لازم نہیں نظریہ دیکھئے مُناسبِ شانِ عَطا ہے کیا

ہیں بہترین صُلح پہ ظاہر کی رنجشیںناحق ہُوں میں ملوُل، وہ مجھ سے خفا ہے کیا؟

گروِیدہ جس سے تو ہے، خبر بھی نہیں اُسےپھر تیرے اِضطراب کی حسرؔت بِنا ہے کیا ؟

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں