عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کی
کلام: حسرت موہانی
عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کیحد سے بڑھ جائے نہ شان کج ادائی آپ کی
آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیںدر پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)
مہمان شاعر: حسرت موہانی
عاشقوں سے ناروا ہے ہے وفائی آپ کیحد سے بڑھ جائے نہ شان کج ادائی آپ کی
آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیںدر پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی
تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہےکس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے
ارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیںان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے
کیا تم کو علاج دل شیدا نہیں آتاآتا ہے پر اس طرح کہ گویا نہیں آتا
ہو جاتی تھی تسکین سو اب فرط الم سےاس بات کو روتے ہیں کہ رونا نہیں آتا