5 اشعار

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

Azaab Wahshat-e-Jaan Ka Sila Na Maange Koi

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

«عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئینئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

تمام شہر مکرم بس ایک مجرم میںسو میرے بعد مرا خوں بہا نہ مانگے کوئی

کوئی تو شہر تذبذب کے ساکنوں سے کہےنہ ہو یقین تو پھر معجزہ نہ مانگے کوئی

عذاب گرد خزاں بھی نہ ہو بہار بھی آئےاس احتیاط سے اجر وفا نہ مانگے کوئی

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں