عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
کلام: افتخارعارف
عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئینئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئینئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی