5 اشعار

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

Yeh Mojza Bhi Kisi Ki Dua Ka Lagta Hai

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے

«یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہےیہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلیوہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھیہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

نئی گرہ نئے ناخن نئے مزاج کے قرضمگر یہ پیچ بہت ابتدا کا لگتا ہے

کہاں میں اور کہاں فیضان نغمہ و آہنگکرشمہ سب در و بست نوا کا لگتا ہے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں