6 اشعار

ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں

Humein Khabar Thi Ke Yeh Dard Ab Thamega Nahin

ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں

«ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیںیہ دل کا ساتھ بہت دیر تک رہے گا نہیں

ہمیں خبر تھی کوئی آنکھ نم نہیں ہو گیہمارے غم میں کہیں کوئی دل دکھے گا نہیں

ہمیں خبر تھی کہ اک روز یہ بھی ہونا ہےکہ ہم کلام کریں گے کوئی سنے گا نہیں

ہماری دربدری جانتی تھی برسوں سےگھر آئیں گے بھی تو کوئی پناہ دے گا نہیں

ہماری طرح نہ آئے گا کوئی نرغے میںہماری طرح کوئی قافلہ لٹے گا نہیں

نمودِ خواب کی باتیں شکستِ خواب کا ذکرہمارے بعد یہ قصے کوئی کہے گا نہیں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں