7 اشعار

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

Zara Si Der Ko Aaye The Khwab Aankhon Mein

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں

«ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میںپھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میں

وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجودکھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

جنہیں متاع دل و جاں سمجھ رہے تھے ہموہ آئنے بھی ہوئے بے حجاب آنکھوں میں

عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہےوہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

مرے غزال تری وحشتوں کی خیر کہ ہےبہت دنوں سے بہت اضطراب آنکھوں میں

نہ جانے کیسی قیامت کا پیش خیمہ ہےیہ الجھنیں تری بے انتساب آنکھوں میں

جواز کیا ہے مرے کم سخن بتا تو سہیبہ نام خوش نگہی ہر جواب آنکھوں میں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں