5 اشعار

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

Jaisa Hoon Waisa Kyun Hoon Samjha Sakta Tha Main

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

«جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںتم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں

آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہآگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں

چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندرایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں

کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعراس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں نظمیں گیتویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں