جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
کلام: افتخارعارف
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںتم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں
آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہآگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںتم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں
آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہآگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں
اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیںدل الجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں
اب یہ دنیا جسے چاہے اسے دیکھے سر سیلہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں