6 اشعار

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے

Khwab Dekhne Wali Aankhen Patthar Hongi Tab Sochen Ge

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے

«خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گےسندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گے

رس برسانے والے بادل اور طرف کیوں اڑ جاتے ہیںہری بھری شاداب کھیتیاں بنجر ہوں گی تب سوچیں گے

بستی کی دیوار پہ کس نے ان ہونی باتیں لکھ دی ہیںاس ان جانے ڈر کی باتیں گھر گھر ہوں گی تب سوچیں گے

مانگے کے پھولوں سے کب تک روپ سروپ کا مان بڑھے گااپنے آنگن کی مہکاریں بے گھر ہوں گی تب سوچیں گے

بیتی رت کی سب پہچانیں بھول گئے تو پھر کیا ہوگاگئے دنوں کی یادیں جب بے منظر ہوں گی تب سوچیں گے

آنے والے کل کا سواگت کیسے ہوگا کون کرے گاجلتے ہوئے سورج کی کرنیں سر پر ہوں گی تب سوچیں گے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں