یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
کلام: افتخارعارف
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہےیہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے
یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلیوہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہےیہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے
یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلیوہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے
خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گےسندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گے
رس برسانے والے بادل اور طرف کیوں اڑ جاتے ہیںہری بھری شاداب کھیتیاں بنجر ہوں گی تب سوچیں گے