9 اشعار

یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں

Yun To Nahin Ke Dil Mein Ab Koi Nayi Dua Nahin

یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں

«یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیںحرفِ دعا تو ہے مگر ذکر کا حوصلہ نہیں

دیر بہت ہی دیر تک یاد کیا گیا انہیںویسے پلٹ کے دیکھنا میرا مزاج تھا نہیں

رات بس اک چراغ کی لو سے رہا مکالمہصبح نہ جانے کب ہوئی ، کیسے ہوئی پتا نہیں

ایک ذرا سی بات ہے جس سے پڑے ہیں سارے پیچپیچ بھی وہ کہ درمیاں کوئی بھی دوسرا نہیں

کیسی عجیب بات ہے زعمِ ہنر کے باوجودرنگ بکھر گئے تمام نقش کوئی بنا نہیں

جس میں تمام دل کی بات کھل کے بیان کرسکوںایک سخن وہی سخن مجھ سے کبھی ہوا نہیں

چہرہ بہ چہرہ ، لب بہ لب ، خواب بہ خواب ،دل بہ دلعمر گزار دی گئی کوئی کہیں ملا نہیں

میری بیاض عشق میں مطلعِ اولِ غزلدرج تو کرلیا گیا ویسے کہیں پڑھا نہیں

دل کے معاملوں کے بیچ عمر کہاں سے آگئیجانِ جہانِ افتخار وقت ابھی گیا نہیں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں