7 اشعار

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں

Khwab-e-Deerina Se Rukhsat Ka Sabab Poochhte Hain

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں

«خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیںچلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں

کیسے خوش طبع ہیں اس شہر دل آزار کے لوگموج خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں

اہل دنیا کا تو کیا ذکر کہ دیوانوں کوصاحبان دل شوریدہ بھی کب پوچھتے ہیں

خاک اڑاتی ہوئی راتیں ہوں کہ بھیگے ہوئے دناول صبح کے غم آخر شب پوچھتے ہیں

ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوالجتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں

یہی مجبور یہی مہر بہ لب بے آوازپوچھنے پر کبھی آئیں تو غضب پوچھتے ہیں

کرم مسند و منبر کہ اب ارباب حکمظلم کر چکتے ہیں تب مرضیٔ رب پوچھتے ہیں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں