6 اشعار

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا

Thakan To Agle Safar Ke Liye Bahana Tha

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا

«تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھااسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھیاسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

متاع جاں کا بدل ایک پل کی سرشاریسلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا

ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھیتبھی تو لہجۂ خوشبو بھی جارحانہ تھا

وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصلنئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

قبائے زرد نگار خزاں پہ سجتی تھیتبھی تو چال کا انداز خسروانہ تھا

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں