5 اشعار

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

Khwab Ki Tarah Bikhar Jaane Ko Jee Chahata Hai

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

«خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوںشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائےایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑےایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہتاسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں