انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
کلام: افتخارعارف
انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیںہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیںہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہےمگر خدا کی عطا ہے قلم ہمارا ہے
علَم کسی نے کسی کو دیا تھا خیبر میںوہ دن اور آج کا دن اب علَم ہمارا ہے