یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں
کلام: افتخارعارف
یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیںحرفِ دعا تو ہے مگر ذکر کا حوصلہ نہیں
دیر بہت ہی دیر تک یاد کیا گیا انہیںویسے پلٹ کے دیکھنا میرا مزاج تھا نہیں
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیںحرفِ دعا تو ہے مگر ذکر کا حوصلہ نہیں
دیر بہت ہی دیر تک یاد کیا گیا انہیںویسے پلٹ کے دیکھنا میرا مزاج تھا نہیں