5 اشعار

دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں

Deewana mujh sa kab jeeta hai kyun tadbeer karte hain

دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں

«دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں» انعام اللہ خاں یقین کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیں

ہوائے گرم کے لگنے سے کب پتھر پگھلتا ہےیہ نالے ان بتوں کے دل میں کب تاثیر کرتے ہیں

خدا کی بندگی کہئے اسے یا عشق معشوقییہ نسبت ایک ہے سو سو طرح تعبیر کرتے ہیں

دوانے ہیں سیانے چھوڑ دو تم نقش کو ان کےپرائے گھر کی پریوں کے تئیں تسخیر کرتے ہیں

نگہ کرنے میں ان کے کام ہوتا ہے تمام اس کایقیںؔ کے حق میں یہ خوباں بہت تقصیر کرتے ہیں

— انعام اللہ خاں یقین

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں