دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیں
کلام: انعام اللہ خاں یقین
دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیں
ہوائے گرم کے لگنے سے کب پتھر پگھلتا ہےیہ نالے ان بتوں کے دل میں کب تاثیر کرتے ہیں